11 ستمبر 2026 - 17:33
بقایٔی: جوہری معاملے میں آئی اے ای اے کے کردار نے نگرانی اور جنگ کا جواز فراہم کرنے کے درمیان فرق مٹا دیا

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو سیاسی دباؤ بڑھانے اور ایران کے خلاف فوجی جارحیت کا جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرنا ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی کو جنگ کے لیے بہانے تیار کرنے کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ایران کے جوہری معاملے پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے کردار پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے ایجنسی کی فنی رپورٹنگ کو، جس کی بنیاد فنی مہارت، غیر جانب داری اور آزادانہ عمل پر ہونی چاہیے، جنگ کی راہ ہموار کرنے کے لیے سیاسی جواز میں تبدیل کردیا ہے۔

بقائی نے کہا کہ جب ایجنسی کی رپورٹس مسائل اور ابہامات دور کرنے کے بجائے کسی ملک کے خلاف خطرے کا بیانیہ تشکیل دینے اور سیاسی و قانونی مقدمہ تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے لگیں تو ’’فنی نگرانی‘‘ اور فوجی جارحیت کی راہ ہموار کرنے کے درمیان خطرناک حد تک فرق ختم ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف ایجنسی یا اس کے ڈائریکٹر جنرل کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان تک محدود نہیں، بلکہ ایجنسی کا سب سے قیمتی اثاثہ یعنی ایک غیر جانب دار اور آزاد مرجع کی حیثیت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ جب ایجنسی کی فنی اور ادارہ جاتی ساکھ کو سیاسی مقاصد کے لیے قربان کیا جاتا ہے تو یہ ادارہ جارحیت کو منطقی اور قابلِ قبول ظاہر کرنے اور اسے آسان بنانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

بقائی نے اس صورتحال کو ادارے کی ایک گہری ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایجنسی ایک ایسی غیر قانونی جنگ کے لیے سیاسی راہ ہموار کرنے میں شریک بن جاتی ہے جو نسل کش صیہونی ریاست کے مفادات اور عزائم کے مطابق لڑی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی صیہونی ریاست اب بھی مشرق وسطیٰ کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ جس ادارے کی ذمہ داری بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ میں معاونت کرنا ہے، اسے جنگ کے لیے بہانے تیار کرنے والے سلسلے کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی جارحیت اور جنگی جرائم کی ذمہ داری کا تعین کرتے وقت جواب دہی صرف ان افراد تک محدود نہیں ہونی چاہیے جو حملے کا حکم دیتے ہیں یا براہِ راست غیر قانونی حملوں کو انجام دیتے ہیں، بلکہ ان افراد کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے جو جان بوجھ کر جارحیت کے لیے سیاسی اور قانونی جواز تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

بقائی کے مطابق، جو لوگ غلط جائزوں کو قابلِ اعتماد بنیاد کے طور پر پیش کرکے طاقت کے استعمال کی راہ ہموار کرتے ہیں، جارحیت کے لیے ماحول تیار کرتے ہیں یا اسے جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اس کے نتائج کی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha